24 اپریل 2013 - 19:30

مصر کي جماعت اخوان المسلمين کے اس مطالبے پر کہ عدالتي محکموں سے سابقہ حکومت کي باقيات کا صفاياکياجائے اور پارليمنٹ نئے عدالتي قوانين کي تدوين کا بل پاس کرے مصرکي مختلف سياسي جماعتوں اور خاص طور پر صدر مرسي کي مخالف پارٹيوں نے شديد ردعمل ظاہر کيا ہے -

ابنا: صدرمرسي کے مخالفين کا کہنا ہے کہ مصر ميں نئے عدالتي قوانين کو وضع کرنے کا مطالبہ ججوں کے ريٹائر منٹ کي عمرکم کرنے کے لئے تھا جس کا مطلب يہ ہے کہ مصرکے بہت سے ججوں کو فارغ کرديا جائے گا –
مصري صدر محمد مرسي نے اس طرح کے ردعمل اور اعتراضات کا جواب دينے کے لئے مصر کے اعلي ججوں کي کونسل کے ساتھ ايک ملاقات بھي کي ہے  -
محمد مرسي نے اس ملاقات ميں مصر کے آئين کي پاسداري اور عدليہ کي خود مختاري کي ضرورت پر زور ديا تھا - انہوں نے کہا کہ وہ اس کو اپنے لئے ايک قانوني فريضہ سمجھتے ہيں –
دوسري طرف مصري حکومت  کي مخالف جماعتوں کے اتحاد نيشنل سالويشن فرنٹ نے اپنے ايک بيان ميں مصري شہريوں سے کہا ہے کہ وہ مصري پارليمنٹ کي عمارت کے باہر عدليہ کے ججوں کي حمايت ميں اجتماع کريں - اس بيان ميں کہا گيا ہے کہ وہ اخوان المسلمين کے اس مطالبے کي مخالفت کرے گا –
يہاں سب سے اہم نکتہ يہ ہے کہ مصري صدر نے کھل کر اعلان کيا ہے کہ وہ اپني پوري کوشش کريں گےکہ عدليہ اور ججوں کي کہيں سے کوئي بے احترامي نہ ہو -
  مصري صدر نے عدليہ کي خود مختاري ججوں کے احترام اور آئين کي پاسداري کے عزم  کا اعلان ايک ايسے وقت کيا ہے  کہ مصري وزير اعظم ہشام قنديل کي کابينہ ميں رد وبدل کي بھي خبريں سامنے آرہي ہيں اور بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے کے آغاز ميں حکومتي کابينہ ميں رد وبدل انجام پاجائے گا - پچھلے دنوں ايسي بھي خبريں آرہي تھيں کہ وزرائے داخلہ ، قانون ، ٹرانسپورٹ ، کوآپريشن اور تعليم نے اپنے اپنے عہدوں سے استعفے دے دئے ہيں - ساتھ ہي مصر ميں غير سرکاري ذرائع نے اعلان کيا ہے کہ ہشام قنديل نے بعض جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ کابينہ ميں نئے وزرا  کے ناموں پر تبادلہ خيال کيا ہے  -
  مص ميں سياسي حلقوں کا کہنا ہے کہ  وزير اعظم ہشام قنديل کي کابينہ ميں رد وبدل اس لئےکيا جارہا ہے تاکہ آئندہ عام انتخابات ميں سياسي جماعتوں کو سرگرم طريقے سے حصہ لينے کے لئے ترغيب دلائي جائے   خاص طور پر اس لئے بھي کہ حزب اختلاف کے ايک اہم رہنما محمد البرادعي نے کہا ہے کہ وہ اسي صورت ميں آئندہ پارليماني انتخابا ت ميں حصہ ليں گے جب ملک ميں ايک غيرجانبدار حکومت برسر اقتدار آئے گي-
انہوں نے يہ بھي کہا کہ نيشنل سالويشن فرنٹ مرسي کي پيش کردہ قومي بات چيت کے عمل ميں شرکت کرنے کو تيارہے ليکن شرط يہ ہے کہ بنيادي آئين ميں اصلاح  قومي آشتي اور  انتخابات کے قانون کي تدوين کے لئے کميٹياں تشکيل دي جائيں - جبکہ موجودہ حکومتي کابينہ ميں رد وبدل بھي مصري حکومت کے ساتھ بات چيت کي ايک  شرط ہے  -
 مصر کے بعض ذرائع ابلاغ يہ کہہ رہے ہيں کہ موجودہ حکومتي کابينہ ميں رد و بدل اس بات کي غمازي کرتا ہے کہ صدر مرسي اور ہشام قنديل کي حکومت مخالفين کے سامنے کسي قدر نرمي کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہيں تاکہ ملک ميں جاري سياسي کشيدگي کو کم کيا جاسکے.

.....

/169